اَے اِسراؔ ئیل کی کنواری ! میں تجھے پھر آباد کرونگا اور تو آباد ہو جائیگی ۔ تو پھر دف اُٹھا کر آراستہ ہو گی اور خوشی کرنے والوں کے ناچ میں شامل ہونے کو نکلیگی ۔
کیونکہ خداوند یو ں فرماتا ہے کہ یعقوب ؔ کے لئے خوشی سے گاؤ اورقوموں کی سرتاج کے لئے للکارو ۔ منادی کرو ۔ حمد کرو اور کہو اَے خداوند اپنے لوگوں کو یعنی اِسراؔ ئیل کے بقیہّ کو بچا ۔
دیکھو میں شمالی ملک سے اُنکو لاؤنگا اور زمین کی سر حدوں سے اُنکو جمع کرونگا اور اُن میں اندھے اور لنگڑے اور حاملہ اور زچہّ سب ہو نگے ۔ اُنکی بڑی جماعت یہاں واپس آئیگی ۔
وہ روتے اور مناجات کرتے ہوئے آئینگے ۔میں اُنکی راہبری کرونگا میں اُنکو پانی کی ندیوں کی طرف راہ راست پر چلا ؤنگا جس میں وہ ٹھوکر نہ کھا ئینگے کیونکہ میں اِسراؔ ئیل کا باپ ہوں اور افراؔ ئیم میرا پہلوٹھا ہے۔
اَے قومو! خداوند کا کلام سُنو اور دور کے جزیروں میں منادی کرو اور کہو کہ جس نے اِسراؔ ئیل کو تتر بتر کیا وہی اُسے جمع کریگا اور اُسکی اَیسی نگہبانی کریگا جیسی گڈریا اپنے گلہ کی۔
پس وہ آئینگے اور صیون کی چوٹی پر گائینگے اور خداوند کی نعمتوں یعنے اناج اور مے اور تیل او ر گائے بیل کے اور بھیڑ بکری کے بچوں کی طرف اِکٹھے رواں ہونگے اور اُنکی جان سیراب باغ کی مانند ہو گی اور وہ پھر کبھی غمزدہ نہ ہو نگے۔
خداوند یوں فرماتا ہے کہ رامہؔ میں ایک آواز سُنائی دی ۔ نوحہ اور زار زار رونا ۔ راخلؔ اپنے بچوں کو رو رہی ہے وہ اپنے بچوں کی بابت تسلی پذیر نہیں ہوتی کیونکہ وہ نہیں ہیں ۔
خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنی زاری کی آواز کو روک اور اپنی آنکھوں کو آنسوؤں سے باز رکھ کیونکہ تیری محنت کے لئے اجر ہے خداوند فرماتا ہے اور وہ دُشمن کے ملک سے واپس آئینگے ۔
فی الحقیقت میں نے افراؔ ئیم کو اپنے آپ پر یوں ماتم کرتے سُنا کہ تو نے مجھے تنبیہ کی اور میں نے اُس بچھڑے کی مانند جو سدھایا نہیں گیا تنبیہ پائی ۔ تو مجھے پھیر تو میں پھر ونگا کیونکہ تو ہی میرا خدا وند خدا ہے ۔
کیونکہ پھر نے کے بعد میں نے توبہ کی اور تربیت پانے کے بعد میں نے اپنی ران پر ہاتھ مارا ۔ میں شرمندہ بلکہ پریشان خاطر ہوااِسلئے کہ میں نے اپنی جوانی کی ملامت اُٹھائی تھی۔
کیا افراؔ ئیم میرا پیارا بیٹا ہے؟ کیا وہ پسندیدہ فرزندہے؟ کیونکہ جب جب میں اُسکے خلاف کچھ کہتا ہوں تو اُسے جی جان سے یاد کرتا ہوں ۔ اِسلئے میرا دل اُسکے لئے بیتاب ہے۔ میں یقیناًاُس پر رحمت کرونگا خداوند فرماتا ہے ۔
اپنے لئے سُتون کھڑے کر ۔ اپنے لئے کھمبے بنا۔اُس شاہرا ہ پر دل لگا ۔ ہاں اُسی راہ سے جس سے تو گئی تھی واپس آ۔ اَے اِسراؔ ئیل کی کنورای اپنے اِن شہروں میں واپس آ۔
ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ جب میں اُنکے اسیروں کو واپس لاؤنگا تو وہ یہوداہ ؔ کے ملک اور اُسکے شہروں میں پھر یوں کہینگے اَے صداقت کے مسکن ! اَے کوہِ مقدس خداوند تجھے برکت بخشے ۔
اور خداوند فرماتا ہے جس طرح میں اُنکی گھات میں بیٹھکر اُنکو اُکھاڑا اور ڈھا یا اور گرایا اور برباد کیا اور دُکھ دیا اُسی طرح میں نگہبانی کرکے اُنکو بناؤ نگا اور لگاؤ نگا ۔
اُس عہد کے مطابق نہیں جو میں نے اُنکے باپ دادا سے کیا جب میں اُنکی دستگیری کی تاکہ اُنکو ملک مصرؔ سے نکال لاؤں اور اُنہوں نے میرے اُس عہد کو توڑا اگرچہ میں اُنکا مالک تھا خداوند فرماتا ہے ۔
بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میں اُن دنوں کے بعد اِسراؔ ئیل کے گھرانے سے باندھونگا ۔ خداوندفرماتا ہے میں اپنی شریعت اُنکے باطن میں رکھو نگا اور اُنکے دِل پر اُسے لکھونگا اور میں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میرے لوگ ہو نگے۔
اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہکر تعلیم نہیں دینگے کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانینگے خداوند فرماتا ہے اِسلئے کہ میں اُنکی بدکرداری کو بخش دونگا اور اُنکے گناہ کو یا د نہ کرونگا ۔
خداوند جس نے دِن کی روشنی کے لئے سورج کر مقر ر کیا او ر جس نے رات کی روشنی کے لئے چاند اور ستاروں کا نظام قائم کیا جو سمندر کو موجزن کرتا ہے جس سے اُسکی لہریں شور کرتی ہیں یوں فرماتا ہے ۔ اُسکا نام ربُّ الافواج ہے۔
خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگر کوئی اُوپر آسمان کو ناپ سکے اور نیچے زمین کی بنیاد کا پتہ لگالے تو میں بھی بنی اِسراؔ ئیل کو اُنکے اعمال کے سبب سے رد کردونگا خداوند فرماتا ہے ۔
اور لاشوں اور راکھ کی تمام وادی اور سب کھیت قدؔ رون کے نالے تک اورگھوڑے پھاٹک کے کونے تک مشرق کی طرف خداوند کے لئے مُقدس ہونگے ۔ پھر وہ ہمیشہ تک نہ کبھی اُکھاڑانہ گرایا جائیگا۔